نظم

آواز اگرنہ اُٹھاؤ گے

سالک ادؔیب بونتی

ننھی وہ معصوم سی بچی
جس کوایک درندےنے

بےرحمی سے بےباکی سے
پڑکےِ ہوس میں ماردیاہے

یہ بات نہیں ہے کوئی نئی سی
کچھ لوگ دردندےبن بیٹھےہیں

چلتےپھرتےمعصوموں کی
عصمت لوٹ کے جیتےہیں

ان کونہ اگرتم پکڑوگے
خاموش تماشادیکھوگے

آوازاگرنہ اٹھاؤگے
انصاف نہ ملےگرآصفہ کو

کل دیکھناتم بھی روؤگے
مائیں بہنیں تمھاری بھی

محفوظ نہ ہوں گی پھرکوئی
حیوان نشانہ بنائےگا

  پھررونےسے چلانےسے
خوب دہائی دینےسے

  کچھ فائدہ تم کوناہوگا
ہندومسلم جھگڑا ھوڑو

  ظالم جابر شیطاں کے
مِل جُل کےسرکو کچل ڈالو

  ورنہ ایسےجینےسے
خون کےآنسوپینےسے

  گُھٹ گُھٹ آہیں بھرنےسے
لاکھ ہے بہترمرجاؤ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close