غزلنظم

آیت اللہ عظمیٰ حضرت امام خمینی کی ایک عارفانہ غزل کا منظوم اردو مفہوم

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

خالِ لب پر ترے اے دوست گرفتار ہوا

چشمِ بیمار تری دیکھ کے بیمار ہوا

خود سے بیخود ہوا دے بیٹھا اناالحق کی صدا

مثل منصور سرِ دار خریدار ہوا

غمِ دلدار نے پیدا کیا مجھ میں وہ شرر

جاں ہتھیلی پہ لئے شہرۂ بازار ہوا

درِ میخانہ شب و روز کرو مجھ پر باز

مسجد و مدرسہ سے دل مرا بیزار ہوا

جامۂ زہد کیا ترک، پہن کر اس کو

خرقۂ پیرِ خراباتی سے ہشیار ہوا

واعظِ شہر کی باتوں نے دلآزاری کی

رند میخوار تھا جو میرا مددگار ہوا

چھوڑ دو مجھ کوکہ اب یاد کروں میکدہ میں

بیعتِ ساقیٔ میخانہ سے بیدار ہوا

غزل  فارسی عارفانہ آیت اللہ العظمٰی امام خمینی

من بہ خالِ لبت ،ای دوست گرفتار شدم

چشم بیمار تو را دیدم و بیمار شدم

فارغ ازخود شدم و کوس اناالحق بزدم

ھمچو منصور خریدار سرِ دار شدم

غمِ دلدار فگندہ است بہ جانم شرری

کہ بجان آمدم و شھرۂ بازار شدم

درِ میخانہ گشایید بہ رویم، شب و روز

کہ من از مسجد و از مدرسہ بیزار شدم

جامۂ زھد و ریا کندم و بر تن کردم

خرقۂ پیر خراباتی و ھشیار شدم

واعظِ شھر کہ از پند خود آزارم داد

از دمِ رندِ می آلودہ ، مددکار شدم

بگذارید  کہ از بتکدہ یادی بکنم

من کہ با دستِ بتِ میکدہ بیدار شدم

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close