نظم

ادب برائے تبدیلی کے نام— کچھ نظمیں

تبسم فاطمہ
(۱)
زندگی کو سلام
زندگی میں آنے والی
دھوپ،رنگ اور چھائوں رنگ تبدیلیوں کو سلام
غالب اور اقبال کے آشیانے میں
تلسی اور کبیر کے آستانے میں
شمشیر، فیض اور نرالا کے گیتوں کے سائبان میں
آنکھیں کھولیں
تو زندگی نئی تبدیلیوں کے ساتھ موجود تھی
الجھنیں— آگے بڑھنے کا راستہ تھیں
خواہشیں— خوشبو کے باغات
دکھ۔ بارش کا موسم
زندگی سے سیکھا
کہ تبدیلیوں کا اپناراستہ اور رنگ ہوتا ہے
زندگی ان دھوپ چھائوں رنگوں سے غسل کے بعد
ہر بار
پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوجاتی ہے
(۲)
باہر۔ تبدیلیوں کے خار نہیں پھول تھے…
ہاتھ لہولہان کرتے ہوئے بھی میں پھول چن رہی تھی…
تب اڑنا بھی نہیں سیکھا تھا۔
کھپڑے کی گوٹ سے چھوتی تی… کھیلتے ہوئے
لڑکھڑا کر گرتی
تو ہنستے ہوئے کہتی… اہا، زندگی…
آسمان میں، اڑتی ہوئی پتنگوں میں
کوئی پتنگ میری نہیں تھی
پھر بھی ہر بارکٹی ہوئی پتنگ کے لیے دوڑ پڑتی تھی۔
تب پہلی بار خیال آیا تھا
پتنگوں میں اور پیچ لڑانے میں کیسا رشتہ ہے۔
کمزور دھاگے کے ساتھ
بجلی کے کھمبوں میں الجھنے والی پتنگ کے معنی کیا ہیں؟
پتنگوں کے کٹ جانے پر بھی
چیخ کرتالیاں بجایا کرتی… اہا… زندگی

میں تاریکی سے یقین کی وادیوں میں آئی
گرنے سے سنبھلنا سیکھا
دور تک پھیلے ریگستان میں
خواہشوں کے پھول اگانا اچھا لگا مجھے
بالکنی کے باہر
رنگ برنگے پھولوں کے گملے سجائے
ٹوٹنا منظور نہیں تھا
اس لیے ہر بار آنکھوں میں
خواب کے لیے پیدا کی— تھوڑی سی جگہ
اور زور سے چلائی— اہا زندگی
(۳)
جانتی ہوں
دامنی کے قتل کے بعد بھی
عصمت دری کے واقعات کم نہیں ہوئے ہیں
شیش محلوں میں کھیلے جارہے ہیں
سانپ اور سیڑھی کے کھیل
ہزاروں لاکھوں کی آواز بھی
سیاست کے شور میں دبادی جاتی ہے
ڈھلتی ہوئی شام کا احساس
میرے نزدیک ندامت بھی ہے
اور احساس جرم بھی
دوزخ میں جھلسنے کے بعد بھی
ایک کھڑکی کھلی رہ جاتی ہے جنت کی
دھوپ سے زیادہ
دھوپ کی گانٹھوں سے بندھی چھائوں پسند ہے مجھے/
جہاں زندگی پناہ مانگتی ہے
وہاں بھی ہوتی ہے ایک زندگی
وہاں سے بھی شروع کی جاسکتی ہے
تبدیلی کی، ایک نئی جنگ کی
ایک نئے رنگ کی

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close