نظم

ادھوری زندگی

نظر عرفان

یہ زندگی

میری

رہ گئی ادھوری

وہ ملی پر وہ  نہ ملی

لاکھ کوششیں کی

پر کچھ حاصل تو نہیں

یہ ہے مقدر کا کھیل

جو ملی!  پر وہ بھی نہ ملی

ہے یہ فلسفہ مشھور

خودی کو کر بلند اتنا

پر یہ بھی کام آیا تو نہیں

ہر طرف مجھے دکھ رہا ہے ویرانیاں،

 ہر کوئی ہے آج پرایا

اور یہ مری بربادیان!

جو دکھ رہا ہے سبھی کو

اور یہ جو  ہیں اپنے

اور مانا جن کو میں نے اپنا

 یہ بھی کام آۓ تو نہیں!

ان اپنوں کے ساتھ بھی ہے مجبوریاں

اوروں نے جوسمجھ  پاے تو نہیں،

 پر میں سمجھا تو سہی!

سنا ہے بنجر زمین بھی سنبل اگاتی ہے

گر ہو عمل نیک نیتی

ایسا ہوتا ہے  پر کبھی ایسا ہوتا  تو نہیں

اگر ہاتھوں کہ لکیروں میں لکھا  ہو فقیری

شکر خدا  کا کروں،  یہ فقیری ہی سہی

شکایت کروں کیوں اس پروردگار سے!

جس نے دی یہ زندگی

پر شکایت کروں کیوں نہ

 ایسی زندگی ہی کیا!

جس میں ہو  نہ آسودگی

یارو  دنیا اسی کا نام ہے

یہ دنیا جنت تو نہیں

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close