نظم

ادھوری محبت

شیخ داؤد ابن نزیر

(ہندوارہ کشمیر)

وہ ادھوری محبت تھی

جو کبھی مکمل نہیں ہوپائی

اب کے وجودی تہہ خانوں میں

آتما بن کے جی رہی ہے

نہ کبھی سوتی ہے

نہ ہمیں سونے دیتی ہے

صرف روتی ہے

ہمیں رلواتی ہے

بھلا! مٹے رشتے کو زندہ کرتی ہے یہ

کیا تھے وہ ‛ کیا کہیں ہم

ہم بھی بہت بدلے ہم

دنیا میں اب دو جہاں جیتے ہیں

وہ اپنی ہم دوسری جہاں جیتے ہیں

پھر بھی وہ گم کردہ راہیں

دعوتِ نظارہ دیتی ہے

یادوں کے دریچے کھول کر

اُن سائبان میں چھوڑ دیتی ہے

دل کی ویران دنیا میں

اک ہلچل سی مچ جاتی ہے

بے قراری حد سے بڑھ جاتی ہے

جیسے پھر وہ سایہ بن کے چھپا لیتی ہے

اپنے پیار میں ذرا تھام لیتی ہے

پل بھر میں خوشیوں کی دنیا

اس کی آنچل میں جی لیتے ہیں

پھر دمادم فراق کی بارش میں

عدم ہو جاتے ہیں

نہ وہ رہتے اور نہ ہم

جیسے کبھی تھے ہی نہیں ہم

وہ ادھوری محبت تھی

جو کبھی مکمل نہیں ہو پائی

مزید دکھائیں

2 تبصرے

متعلقہ

Close