نظم

اس قدر کھویا ہے خود کو  ان راہوں نے

اب مزید کھونے  سے دل  ڈر سا گیا ہے 

اسماء طارق

اس قدر کھوا ہے خود کو  ان راہوں نے

اب مزید کھونے  سے دل  ڈر سا گیا ہے

سو سو بار  کلمے پڑھ پڑھ پھونکوں میں

پر دل کے  اس ڈر کا   کروں کیا   میں

منزل ہے دور کہیں اور راستہ ہے  کٹھن

آگے بڑھنا مشکل ہے پر رکنا بھی محال ہے

عالم اضطراب ہے اور  دل پریشان  ہے

خوف کے حصار میں ہوں  کھڑا تن تنہا

کوئی حل ملتا نہیں ہے  کہیں

اس طرح ہوں گرا مشکلوں سے  میں

ہاتھ اٹھائے، سر جھکائے گرا ہوں سجدے میں

اب تو آساں کر مجھ پر میری منزل یا الہی

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close