نظم

انڈیا اسلامک سینٹر، نئی دہلی: منظوم تاثرات

احمد علی برقیؔ اعظمی

ہے یہ اک اسلامی سینٹر کی عمارت شاندار
دہلی میں اسلامی قدروں کی ہے جو آئینہ دار

اقٹضائے وقت تھا اس شہر میں اس کا وجود
فنِ تعمیرات کا ہے جو نمونہ شاہکار

تھے کبھی روحِ رواں اس کی حکیم عبدالحمید
جامعہ ہمدرد بھی ہے جن کی زریں یادگار

مستحق ہیں داد و تحسیں کے وہ اربابِ نظر
اس کے نظم و نسق میں ہیں آج جو سرگرمِ کار

ہے یہ اک قومی اثاثہ ملک و ملت کے لئے
کرتا ہے جو منعقد اجلاس علمی باوقار

باز ہے سب کے لئے عہدِ رواں میں اس کا در
آج ہوتے ہیں یہاں علمی مباحث بیشمار

کرتا ہے شرمندۂ تعبیر یہ ملت کے خواب
اس پہ نازل ہو ہمیشہ رحمتِ پروردگار

کہنے کو دانشوروں کی اب نہیں کوئی کمی
ہیں کہاںآیندہ نسلوں کے ہماری پاسدار

اور بھی ایسے مراکز کی ضرورت ہے ہمیں
اس طرف دیتے نہیں اب کیوں توجہ مالدار

عہدِ حاضر میں ہے برقیؔ اعظمی قحط الرجال
کیسے کیسے لوگ ملک و قوم کے تھے جاں نثار

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close