نظم

اپنوں سے عداوت یا بیر نہیں ہوتا ہے

دیوار کے اس جانب غیر نہیں ہوتا ہے

جمال کاکوی

اپنوں سے عداوت یا بیر نہیں ہوتا ہے

دیوار کے اس جانب غیر نہیں ہوتا ہے

ہو جائے تنازعہ تو حل ہوتا ہے مل جل کے

دشمن کی طرح ان سے اندھیر نہیں ہوتا ہے

––––

لڑانے کی ہوتی ہے غیروں کی کوشش

سیاست عالم زمانے کی سازش

کوئی ہوتنازعہ ہو کوئی بھی رنجش

آئی جو مشکل تو کرم اور بخشش

پڑوسی سے رشتہ نہیں ٹوٹتا ہے

لگے آگ گھر میں تو دوڑے پڑوسی

۔

مصیبت کے وقت منھ نہ موڑے پڑوسی

پڑوسی کا دامن نہ چھوڑے پڑوسی

پڑوسی کا دل بھی جو توٹے پڑوسی

پڑوسی سے رشتہ نہیں ٹوٹتا ہے

۔

میری بات مانو اے اہل حکومت

پڑوسی سے رکھو نہ کوئی خصومت

محبت اخوت میں اللہ کی رحمت

یہی ہے شرافت اور انسانیت

پڑوسی سے رشتہ نہیں ٹوٹتا ہے

۔

کبھی خوش کبھی ہو کے مجنون دیگا

کبھی آب دیگا کبھی نون دیگا

۔

خدا نہ کرے گر ضرورت پڑی تو

مسیحا بنے گا اور خون دیگا

پڑوسی سے رشتہ نہیں ٹوٹتا ہے

۔

گھر کی یہ رنجش یہ آنگن کا جھگڑا

مقابل نہیں ہے کوئی اور دوجا

وہ دم کا ہے شاتھی پڑوسی ہے اپنا

جہاں میں بناؤ نہ ہرگز تماشا

پڑوسی سے رشتہ نہیں ٹوٹتا

۔

زمانے کا بھائی عجب ہے تماشہ

کہ مجبور بے بس ہوا خونی رشتہ

بنا سو جتن سے پاسپورٹ لیکن

لگا پایا پھر بھی نہ بے چارا ویرہ

جگر پارا پارا نظر آب دیدہ

پڑوسی سے رشتہ نہیں ٹوٹتا ہے

––––

بتاؤ میرے پاس آدھار کیا ہے

دیا تم نے مجھکو یہ سرکار کیا ہے

سرحد پار جانے میں مشکل ہے کیسی

ضمانت کوئی اور درکار کیا ہے

مشکل ہماری یہ آسان کردو

آدھار سب کچھ ہے اعلان کردو

پڑوسی سے رشتہ نہیں ٹوٹتا ہے

مزید دکھائیں

جمال کاکویؔ

کاکو ہائوں پٹنہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close