نظم

اڈوانی کے نام: بابری مسجد کی شہادت کی برسی پر

 سانپ کو دودھ پلانے کا یہ انجام ہوا 

ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی

(دوحہ قطر)

 سانپ کو دودھ پلانے کا یہ انجام ہوا

اپنے شاگرد کے ہاتھوں ہی ترا کام ہوا

اینٹ پتھر کی لہو رنگ سیاست کے نقیب

تجھ سے کیا کیا نہ گلی کوچوں میں کہرام ہوا

تیرے قدموں کی نحوست سے جلے شہر کے شہر

رتھ نہ تھا گویا عزازیل کا پیغام ہوا

رام لیلا کی کہانی کے تھے کردار عجب

جس میں راون کو یہ دھوکہ تھا کہ وہ رام ہوا

وہ عبادت کدہ ہوتی تھیں نمازیں جس میں

ہاۓ افسوس کہ اب  مسکنِ اصنام ہوا

6 دسمبر کو لگا ملک کے ماتھے پہ کلنک

نام نامی بھی شری رام کا بدنام ہوا

لے گیا چھین کے نفرت کی وراثت تیری

اب کسی اور کے ہاتھوں میں ترا جام ہوا

حال یہ ہے کہ ترے چاہنے والوں میں کوئی

نام لے لے جو ترا، باعث دشنام ہوا

ایک ایک کر کے سبھی راندۂ درگاہ ہوئے

توڑنے والوں کا مسجد، یہی انجام ہوا

ڈال ماضی کے گناہوں پہ ندامت کی نظر

اب سیاست کے جھمیلوں سے جو آرام ہوا

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close