نظم

اہل شام! ایک احساس ایک کرب

ملکؔ محی الدین

لب فرات کوئی حشرکربلا ہے میاں

نصیبجس کا لہوسے لکھا گیا ہے میاں

۔

شفق ہے خون شہیدان شام کی غماز

لہو کا پیاسا یہ عالم بنا ہوا ہے میاں

۔

اٹھاوں دست دعا میں تولب نہیں ہلتے

کہ چپ کھڑا ہوں میں الفاظ ہی نہیں ملتے

۔

ہو کیسے داد رسی کیسے چارہ سازی ہو

وہ شق پڑے ہیں جگرمیں سلے نہیں سلتے

۔

بدن میں گردش خوں دل میں اختلاج نہیں

وہ بےحسی کہ کہیں حرف احتجاج نہیں

۔

زمین تنگ ہے ناموس پارہ پارہ ہے

نہ جانے دشت ستم کا کہاں کنارا ہے

۔

خیال جاتا ہے جب شہر خوچکاں کی طرف

نگاہ اٹھتی ہے رہ رہ کے آسماں کی طرف

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close