نظم

ایک انجان سی لڑکی

محمد فیض اعظمی

ایک انجان سی لڑکی

جو دل کے قریب رہتی ہے

نا جانے کون سی ہستی ہے

جو مجھ میں بستی ہے

اسی ہی کے خیالوں میں صبح و شام کرتا ہوں

اسی ہی کی یادوں کو دل سے لگائے رکھتا ہوں

ایک عجب ہی کشش ہے وہ

جو مجھ کو کھینچ لیتی ہے

اس کی نگاہوں میں

ایک عجب ہی چمک ہے

جو مجھ پر چھا جاتی ہے

جو مجھ کو مدہوش کر دیتی ہے

جب اس سے بات کرتا ہوں

غموں کو بھول جاتا ہوں

جب اس کے ساتھ ہوتا ہوں

خوشیوں کو ہی پاتا ہوں

ایک عجب ہی لڑکی ہے

جو دل میں رہتی ہے

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close