نظم

 ایک بریک اپ پارٹی کے دوران

ذیشان الٰہی

عجیب ہو تم!

ہمیں عبث عشق و ہجر کے فلسفے سے

مرعوب کر رہے ہو

کہ ہم تو اک دوسرے سے

وابستگی کی پہلی ہی شب

یہ اظہار کر چکے تھے

"ہمارے بیچ

ایک ربط قائم جو ہو گیا ہے

یہ محض کچھ روز، چند راتوں کا سلسلہ ہے”

ہمیں یہ معلوم ہی نہیں

عشق کیا ہے اور ہجر کیا بلا ہے

ہم اپنی اپنی غرض سے اک دوسرے کے نزدیک آ گئے تھے

سو اب ہم اس سلسلے کو

اپنی رضا سے ہی ختم کر رہے ہیں

اور اس کا ہم کو قلق ہے کوئی نہ کچھ گلہ ہے

تو پھر یہ تم کون تیسرے شخص آن ٹپکے ہو درمیاں اب

جو عشق کرنا سکھا رہے ہو

کسی نے سچ ہی کہا ہے

یہ عشق!

 تم سے فرسودہ ذہنیت کے غلام لوگوں کی اختراع ہے

سو یوں کرو اب!

نصیحتوں کی یہ بے بہا پوٹلی اٹھاؤ

اور اپنی رہ لو

کہ ہم سے روشن خیال لوگوں کے درمیاں

تم سے، بے تکی سی روایتوں کے امیں کی کوئی جگہ نہیں ہے

مزید دکھائیں

ذیشان الہی

276۔۔۔۔ ذیشان الہٰیذیشان الہٰی 2 اگست 1990 کو ٹانڈہ امبیڈکر نگر(فیض آباد) یو.پی ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ میٹرک 2005 میں قومی انٹر کالج ٹانڈہ فیض آباد سے کی۔ انٹرمیڈیٹ 2008 میں قومی انٹر کالج ٹانڈہ سے کی۔ بسلسۂ روز گار سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ شاعری کا باقاعدہ آغاز 2010 میں فیس بک کے ادبی تنقیدی گروپ اردو انجمن اور انحراف پر آنے کے بعد کیا۔

متعلقہ

Close