نظم

ایک وہم کا ازالہ

ادریس آزاد

تم بُرا نہ مانو تو

ایک بات کہتا ہوں

یہ جو وہم ہے تم کو

سب خرید سکتے ہو

جسم، زلف، آنکھیں اور

لب خرید سکتے ہو

بُت پرست لوگوں کے

رَب خرید سکتے ہو

تم عروسہ ٔ نَو کی

شب خرید سکتے ہو

جب خریدنا چاہو

تب خرید سکتے ہو

شعر،لفظ اور شاعر

سب خرید سکتے ہو

پَر سوال اُٹھتا ہے

سب خرید کربھی تم

یہ جو اپنی نظروں میں

"آبرُو سی” ہوتی ہے

کب خرید سکتے ؟

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close