نظم

اے پی جے عبدالکلام مرحوم کی کتاب کے اردو ترجمے پر منظوم تاثرات

احمد علی برقی ؔ اعظمی

کچھ نہ تھا ناقابلِ تسخیر جن کے سامنے
ایک مردِ عبقری تھے اے پی جے عبدالکلام

ان کے ہے اقوال زریں کا مرقع یہ کتاب
کارناموں سے تھے جو اپنے جہاں میں نیک نام

ولولہ انگیز ہیں اُن کے یہ رشحاتِ قلم
استفادہ کررہے ہیں آج جن سے خاص و عام

اقتضائے وقت تھا اردو میں اس کا ترجمہ
تاکہ پہنچے اردوداں طبقے کو بھی ان کا پیام

ایک سو اٹھانوے صفحات پر ہے یہ محیط
جس کا اردو ترجمہ نوشاد بیگم کا ہے کام

قومی اردو کونسل کا بھی تعاون اس میں ہے
جس کی معیاری کُتُب ہیں مرجعِ ہر خاص و عام

مصرعۂ حافظ کا تھی عملی نمونہ ان کی ذات
’’ با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام ‘‘

نظم برقیؔ اعظمی مرحوم کو ہے انتساب
صفحۂ تاریخ کی زینت ہے جن کا آج کام

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close