نظم

بات کرنا یوں تو  کچھ مشکل  نہ تھا 

مگر بات کرنا ہی تو بات کا حل نہ تھا  

 اسماء طارق

بات کرنا یوں تو  کچھ مشکل  نہ تھا

مگر بات کرنا ہی تو بات کا حل نہ تھا

زمانے بیت جائیں تو استخارے بدل جاتے ہیں

ستارے ڈوب جاتے ہیں ،آسماں روٹھ جاتے ہیں

مگر زندگی کا یہ سفر کب تھما ہے

کسی کے آنے سے نہ کسی  جانے سے

بدلتے ہوئے موسم کے ساتھ اکثر لوگ بدل جاتے ہیں

اور پھر کون جیتا ہے  کسی کی یاد کے سہارے

زمانے کی زد میں آئے اکثر عاشق یوں بدلے ہیں

وعدہ وفا کیا  ، اپنا نام تک بھول جاتے ہیں

یوں بھی ہمارے چاہنے اور نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے

  آخر کو وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close