نظم

 برس رہی ہیں نشیمن پہ بجلیاں لوگو

احمد نثارؔ

اگرچہ چاہتے ہو تم بلندیاں لوگو

ذرا حساب کرو اپنی پستیاں لوگو

تمہاری بستی میں امن و اماں کی قلت ہو

تم اپنے پاس رکھو اپنی بستیاں لوگو

ذرا سا سوچ کو بدلو تو کامراں ہوں گے

وگر نہ محنتیں ہوجائیں رائگاں لوگو

ہماری حسبِ ضرورت ہمیں خدا دیگا

زیادہ مل گیا سمجھو کہ امتحاں لوگو

بساط کیا تھی تمہاری یہ جان کر دیکھو

ذرا اْلٹ کے بھی دیکھو تو داستاں لوگو

وہ اپنا رزق بھی لاتا ہے آسمانوں سے

تمہارے گھر پہ جو آتا ہے میہماں لوگو

ستارے کتنے ہیں گردش میں اپنی قسمت کے

سجاکے رکھا ہے میں نے بھی کہکشاں لوگو

ارادے اْن کے سمجھدار ہی سمجھتے ہیں

جو ساحلوں پہ جلاتے ہیں کشتیاں لوگو

نہ جیت پائیں گے کوئی بھی کھیل دنیا کا

جو بات بات پہ کرتے ہیں کْشتیاں لوگو

نبیؐ کا قول یہ کتنا حسین لگتا ہے

کہ لے کے جائیں گی جنت میں بیٹیاں لوگو

نثارؔ بات ہے کچھ تو تمہارے گلشن میں

برس رہی ہیں نشیمن پہ بجلیاں لوگو

٭٭٭٭

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

Close