نظم

بلا عنوان

شیخ جی مضطرب اور پریشان سے

ذیشان الٰہی

پارک کی بنچ پر

شیخ جی مضطرب اور پریشان سے

اپنے ایمان کے بجھتے دیپک میں لاحول کا تیل بھرنے میں مشغول ہیں

سامنے کی نشستوں پہ بیٹھے ہوئے

کچھ جواں سال اور زندگانی کی مستی سے لبریز جوڑے

روایات کی بندشیں توڑ کر

اپنے اطرافی ماحول سے بے خبر

ایک دوجے کے جسموں سے اٹھتی مہک میں شرابور ہیں

اور ادھر محترم

ذہن و دل میں ابھر آئے فاسد خیالات و جذبات کا

 سر کچلتے ہوئے

بار بار ان مناظر کی سمت

 اٹھنے والی نگاہوں سے آنکھوں میں در آئی سرخی چھپانے میں ہلکان سے

شدت  جوش و جذبات میں آپ ہی آپ پہلو بدلتے ہوئے

پیچ و تاب اندر اندر ہی کھاتے ہوئے

اس نئی نسل کو کوستے

شیخ جی مضطرب اور پریشان ہیں

مزید دکھائیں

ذیشان الہی

276۔۔۔۔ ذیشان الہٰیذیشان الہٰی 2 اگست 1990 کو ٹانڈہ امبیڈکر نگر(فیض آباد) یو.پی ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ میٹرک 2005 میں قومی انٹر کالج ٹانڈہ فیض آباد سے کی۔ انٹرمیڈیٹ 2008 میں قومی انٹر کالج ٹانڈہ سے کی۔ بسلسۂ روز گار سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ شاعری کا باقاعدہ آغاز 2010 میں فیس بک کے ادبی تنقیدی گروپ اردو انجمن اور انحراف پر آنے کے بعد کیا۔

متعلقہ

Close