نظم

بھلا لکھوں توکیوں لکھوں میں اہل شام پہ بھائی

حفیظ اشرف شاہین

 سوال( اہل عرب کا)

بھلا لکھوں توکیوں لکھوں میں اہل شام پہ بھائی

نہ میری آنکھ نم ہیں اورنہ ہےاحساس- تنہائی

نہ میں نے جنگ دیکھے ہیں، نہ دیکھا کشت وخوں اب تک

مرے آگے تو دنیا پھررہی ہے ہنستی، اٹھلائی!

۔

کہومیں کس لئے ان حال پہ آنسوکروں ضائع

اوراپنے کھیلتے ہنستے گلوں کی بو کروں ضائع

بھلا مجھکوکمی کیاہے؟ کسی بھی چیزکی آخر

کہ تم پہ چینخ کرکیوں اپنے یہ ہاہوکروں ضائع؟

۔

تمہارے شہرکی گلیوں میں ہیں لاشیں توکیا مجھکو

ہے بیوائوں کی اجڑی مانگ سے کیا واسطہ مجھکو

تمہارے گھرکی باتیں ہیں اسے تم خود ہی حل کرنا

بھلا تم نے کیا کیا ہے، دیاہے تمنے کیا مجھکو؟

جواب(اہل شام کا)

جوپل بھر کے لئے نکلو اگرتم عیش وعشرت سے

کبھی اے کاش دیکھو تم خود اپنی بصارت سے

کبھی ماض یمیں تمنے بھیڑ اوربکری چرائے تھے

خدانے ڈھانپا ہے تم کواپنی خاص رحمت سے

۔

تجارت کے لئے اہل عرب بھی شام آتے تھے

یہاں اپنی مہارت کامناسب دام پاتے تھے

یہ مرکز تھا تجارت کا صداقت کا ثقافت کا

محبت کے ترانے ہم بھی دنیا کوسناتے تھے

۔

قدم رکھا تھا مجھ پہ ایک دن پیارے نبی (ص) نے بھی

نہیں پہچانا تھا انکو اس پل تک کسی نےبھی

پرآنکھوں کی چمک سےایک عالم نے جوپہچانا

تعجب خیز نظروں سے تھا دیکھابوعلی نےبھی

۔

مگرچھوڑویہ ماضی ہے اباس پہ کیا کہا جائے

مرے اس حال پہ کوئی رحم کے پھول برسائے

گرپل بھر کے لئے یہ بھول جائو میں مسلماں ہوں

یہ دنیا ہے یہاں انسان تو انسان کہلائے!

۔

اگرپیرس پہ حملہ ہوتو دنیا کانپ جاتی ہے

اگر لندن میں بم پھوٹے تویواین کورلاتی ہے

مگر جب اس سے زیادہ کچھ ہوبرما میں فلسطیں میں

تواس دم ساری دھرتی دھرم کوحربہ بناتی ہے

ابھی یہ حال ہے کہ خوف پہ بھی خوف طاری ہے

ابھی توہرطرف سے ظلم کاطوفان جاری ہے

دعائیں مانگتے ہیں ہم یہی بس روز وشب رب سے

گزارےنہ کوئی یوں جس طرح ہم نےگزاری ہے

۔

کٹے سراک طرف ہیں تو کسی جانب کٹی باہیں

کہیں چلاتا ہےبچہ، کہیں گریا کناں مائیں

کسی بوڑھے سےکاندھے پہ ہےکوئی لاش بیٹے کا

غرض کہ ہرطرف گریہ،ہراک جانب سے بس آہیں

۔

فقط اب حق کی خاطرہم کوجینا اورمرنا ہے

مگرباطل کے پائوں میں ہمیں ہرگزنہ پڑنا ہے

ہمیں معلوم ہےاب کے ابابیلیں نہ آئیں گی

ابابیلوں کاساراکام اب ہم نے ہی کرنا ہے

۔

سنواے اہل دنیا خاص کر اہل عرب سن لو

تم اپنی خاطر چاہے دوسری کوئی زمیں چنلو

ابھی ڈھیلی بہت ہے یہ رسی رب عالم کی

ابھی مہلت ہے جتناچاہو،خواب تم بن لو

۔

مگر آئے گا اک دن جب خدایہ ڈورکھینچے گا

ہمارےخون سے جنت کےسارے باغ سینچے گا

خداکےرحم کے سائےمیں ہم اس دن کھڑے ہوں گے

تمہیں اللہ اپنے قہرکےبازومیں بھینچے گا

۔

لکھوں گا اورلکھون گا فقط لکھتا ہی جائوں گا

خدانے اک ہنر دی ہے،میں کیسے بازآئوں گا

قلم،تیغ مجاہد سے ہےزیادہ با اثر شاہیں

میں اپنےاس قلم سے قوم میں بیداری لائوں گا

۔

خداجس کو بہت چاہے، شہادت وہہی پاتا ہے

جوباطل کو چبھ جائے، شہادت وہ ہی پاتا ہے

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close