نظم

بیادِ ممتاز فلمی اداکارہ مینا کماری

تاریخ تولد: یکم اگست ۱۹۳۲۔ تاریخ وفات ۳۱مارچ ۱۹۷۲

احمد علی برقیؔ اعظمی

پیش کرتا ہوں میں اُس مینا کماری کو خراج
جو دلوں پر کرتی تھی اپنی اداکاری سے راج

مہ جبیں بانو سے جو مینا کماری بن گئی
دلبری اور دلنوازی کا تھا اس میں امتزاج

سن بہتّر میں جو اس دنیا سے رخصت ہو گئی
حکمراں ہے وہ دلوں پر آج بھی بے تخت و تاج

فلمی دنیا میں ہے جس کا شہرۂ آفاق نام
رہتی دنیا تک کریں گے پیش سب اس کو خراج

مِٹ نہیں سکتے کبھی اُس کے نقوشِ جاوداں
جیسے تھے مقبول کل وہ، ویسے ہیں مقبول آج

اُس اداکارہ کا سب سے منفرد انداز تھا
غمزدہ انسانیت کی تھی صدائے احتجاج

تھی اداکارہ وہ جیسی ویسی ہی تھی شاعرہ
غم کی اک ملکہ تھی،جس کا دردِ دل تھا لا علاج

’’جوار بھاٹا‘‘ اور ’’پاکیزہ‘‘ میں اپنے کام سے
کردیا پیدا دلوں میں اہل دل کے اختلاج

پردۂ سیمیں پہ تھیں جس کی ادائیں دلنواز
فلم بینوں کی تھی برقیؔ اعظمی وہ ہم مزاج

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close