نظم

بیاد علامہ شبلی نعمانی

(بمناسبت یوم تولد)

احمد علی برقیؔ اعظمی

شبلی کا یومِ تولد چار جون
اردو کی تاریخ میں ہے یادگار

زیبِ تاریخ جہاں ہے اُن کا نام
ضوفشاں ہیں اُن کے ادبی شاہکار

تھے دیارِشرق کی وہ آبرو
شہرِ اعظم گڈھ ہے اُن سے باوقار

موضعِ بندول ہے اُن کی زادگاہ
شخصیت ہے اُن کی فخرِروزگار

ان کے رشحاتِ قلم ہیں دلپذیر
ہے عروسِ فکر و فن جن پر نثار


اُن کی ہے ’’ شعرالعجم ‘‘ تاریخ ساز
سیرتِ نبوی ہے وجہہِ افتخار


ان کی ’’ المامون ‘‘ و ’’ الفاروق ‘‘ سے
ہے قلم کا اُن کے جوہر آشکار


ہیں نشاطِ روحِ اربابِ نظر
اُن کے نخلِ زندگی کے برگ و بار


جمل اقصائے جہاں میں آج بھی
کارناموں سے ہیں اپنے نامدار


تھے رفیقِ کار سرسید کے وہ
جن کو حاصل ہے جہاں میں اعتبار


تھے وہ تحریکِ علی گڈھ کے ستون
جس کی ہے بنیاد اب بھی پایدار


اُن کی عصری معنویت آج بھی
ہے جہانِ علم و فن میں برقرار


شبلی نعمانی تھے برقیؔ اعظمی
کشورِ شعر وادب کے تاجدار

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close