نظم

بیاد ممتاز ادیب و صحافی ریاض قدوائی مرحوم

احمد علی برقی اعظمی

نہ رہے اُف ریاض قدوائی

یہ خبر سن کے آنکھ بھر آئی
۔

ساتھ اُن کے نشست اور برخاست
آج بے اختیار یاد آئی
۔

لوحِ دل پر ہیں نقش ان کے نقوش
میرے جیسے ہوں وہ بڑے بھائی
۔

تھے صحافی بھی اور ادیب بھی وہ
ان کے اسلوب میں تھی گیرائی
۔

دے خدا ان کی روح کو تسکین
ان کی ہو خلد میں پذیرائی
۔

تھے وہ اِک حسنِ خُلق کا پیکر
کسر نفسی میں تھی دلآرائی
۔

تھے وہ برقی بصد خلوص و نیاز
مظہرِ علم و فضل و دانائی

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

4 تبصرے

  1. اللّه ہمارے پھوپھا جان کو جنّت اتا فرماے ۔ انکے جانے سے اردو ادب کی ایک اور۔ شاخ ختم ہو گئی ۔ انکی۔ کمی کو۔ کوئی بھی پورا نہیں۔ کر سکتا ۔

متعلقہ

Close