نظم

بے شک میں ایک عام سی لڑکی ہوں

ندا شیخ

بے شک میں ایک عام سی لڑکی ہوں، جو اسکے معیار پہ پوری نہیں اترتی

اور نہ کبھی میری یہ خواہش رہی کہ مجهے وہ خوبصورتی کی بنیاد پہ پسند کرے

مجهے اس لئیے چاہے کہ میں ایک خوبصورت لڑکی ہوں، میری تعریف کرے اور مجهے سراہے

بلکہ میں نے اس کا ساتھ صرف اس لئیے مانگا کہ

مجهے وہ بهٹکنے نہ دے

میں یہ نہیں چاہتی کہ میرے سکھ میں وہ میرا ساتھ دے بلکہ میرے دکھ میں وہ مجهے اللہ سے قریب کردے

میرے لئیے کوئی دولت اکٹهی نہ کرے

نہ ہی عیش و عشرت والی زندگی کا عادی کرے

میں چاہتی ہوں کہ وہ صرف مجهے خود سے مخلص ہونا سکهائے

میں یہ نہیں چاہتی کہ مجهے وہ غصے سے دیکهے

میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ اپنی آنکھ کا اشارہ سمجهنے کا گر سکهائے

میں یہ نہیں چاہتی کہ وہ مجهے اپنے والدین کے ساتهہ رہنے کی تلقین کرے

میری خواہش ہے کہ وہ میرا ہاتھ تھام کر اس خوبصورت رشتے کو نکهارنے  کے فن سے روشناس کروائے

میں یہ نہیں چاہتی کہ وہ میری وجہ سے اپنے بہن بهائیوں سے تلخ کلامی کرے

میں چاہتی ہوں کہ وہ ان سے پیار کرنے کا  گر سکهائے

میں یہ نہیں چاہتی کہ مجهے اہمیت  دے

بلکہ میں چاہتی ہوں کہ مجهے ادب کی چادر اوڑهائے

میں یہ نہیں چاہتی کہ میرے ساتھ دنیا کے خوبصورت مقامات کی  سیر کرے۔

میں چاہتی ہوں کہ مجھ میں دنیا کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کا احساس جگائے..

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close