نظم

تجھے منزلوں کی فکر ہے 

مجھے راستوں کی خبر نہیں 

اسماء طارق

تجھے منزلوں کی فکر ہے

مجھے راستوں کی خبر نہیں

تجھے عہد و پیماں کا شغف

مجھے رنج و الم کا زعم

تجھ قربتوں کا نشہ

مجھے رقابتوں کا ڈر

تجھے عشق نے جوگ دیا

مجھے اپنوں نے روگ دیا

تجھے آسمان کا پتا چاہیے

مجھے زمین کی  خبر نہیں

تیری منرل کہیں اور ہے

میرا راستہ کوئی اور ہے

تم ہو مسافر کبھی یہاں کبھی وہاں

یوں محبتوں میں آنا جانا مجھ کو گوارا نہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close