نظم

تم جلدی لوٹ آؤگے ناں؟

فوزیہ ربابؔ

پھرآج میں کتنی تنہا ہوں

توٗ یاد مجھے پھر آیا ہے

وہ کتنے پیارے پل تھے ناں

جب ساتھ تو میرے ہوتا تھا

میں تیری باتوں کو سن کر

کتنی خوش خوش سی رہتی تھی

یہ لب میرے مسکاتے تھے

اور کلیاں مجھ سے جلتی تھیں

جب میری ہنسی کو سن کے پیا

ان پھولوں کو لاج آتی تھی

جب دیکھ کے سنگ ترے مجھ کو

یہ چاند بھی چھپنے لگتا تھا

جب ساری ساری رات سجن

بس باتوں میں کٹ جاتی تھی

جب روز تہجد میں سائیں

میں تجھ کو مانگا کرتی تھی

جب میری چاہت دیکھ کے توٗ

مجھ سے یہ وعدہ کرتا تھا

میں بس تیرا  تو پی کی ہے

یہ عہد ہے دور نہ جاؤں گا

جب تک یہ آخری سانس رہے

میں تیرا ساتھ نبھاؤں گا

ہے مجھ کو یقین تو سچا تھا

تو اپنا عہد نبھائے گا

پھر لوٹ کے تو آجائے گا

میں تیری تھی میں تیری ہوں

پھر بھی دل کی یہ ہر دھڑکن

اے میرے پیا یہ پوچھتی ہے

تم جلدی لوٹ آؤگے ناں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

فوزیہ ربابؔ

نسوانی جذبات و احساسات کی پُر تاثیر عکاسی کرنے والی اور شاعری و نثر نگاری میں یکساں درک رکھنے والی منفرد لب و لہجہ کی شہزادیِ سخن محترمہ فوزیہ ربابؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات کے دار الحکومت احمد آباد کے ایک معروف علمی و دینی گھرانے سے ہے. بچن ہی سے آپ کو شعر و ادب کے مطالعے کا شوق رہا ہے. آپ نے گجرات یونیورسی ٹی سے ایم اے اور بی ایڈ کی ڈگڑی حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن اینڈ جرنلجزم کی ڈگری بھی حاصل کی ہے. طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر گوئی کی طرف راغب ہیں. شادی کے بعد 2010 سے گوا میں مقیم ہیں اور وہیں سے عالمی ادب میں اپنی منفرد اور معتبر شناخت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں. سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے مختلف ذرائع سے آپ کا کلام پوری اردو دنیا میں روز بروز مقبولیت حاصل کر رہا ہے. آپ متعدد ادبی تنظیموں اور رسالوں وغیرہ سے وابستہ ہیں. اتنی کم عمری ہی میں کئی ایوارڈ و اعزاز سے نوازی جا چکی ہیں نیز پاکستان میں بھی آپ کے اعزاز میں مشاعرہ منعقد ہوچکا ہے. ہندوستان کے متعدد معیاری عالمی و کل ہند مشاعروں میں با وقار و کامیاب شرکت کر چکی ہیں. آپ کی شاعری کا پہلا مجموعہ "آنکھوں کے اُس پار" اکتوبر 2017 میں عرشیہ پبلیکیشنز دہلی سے شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور دوسرا مجموعہ زیرِ ترتیب ہے. آپ کی شاعری کی انتہائی دیدہ زیب اینڈرائڈ ایپ بھی تیار ہو چکی ہے جسے Play Store میں Foziya Rabab Poetry سے تلاش کر کے موبائیل میں انسٹال کر کے پڑھا جا سکتا ہے. آپ کی غزلیں جہاں احساسات و جذبات و دلکشی سے لبریز ہوتی ہیں وہیں آپ کی نظموں میں بلا کی روانی کے ساتھ زبان و بیان کی چاشنی اپنی الگ دل ربائی کی خوشبو لٹاتی ہے جن کو پڑھ کر قاری افکار و تخیل کی حسیں وادی میں گم سا ہو جاتا ہے.

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close