نظم

جبریل و ابلیس مکالمہ

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال
جبریل
ہمدمِ دیرینہ! کیسا ہے جہاں رنگ و بو؟
ابلیس
سوز و ساز و درد و داغ و جستجوے و آرزو
جبریل
ہر گھڑی افلاک پہ رہتی ہے تیری گفتگو
کیا نہیں ممکن کہ تیرا چاکِ دامن ہو رفو
ابلیس
آہ اے جبریل تو واقف نہیں اس راز سے
کر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبو
اب یہاں میری گزر ممکن نہیں ممکن نہیں
کس قدر خاموش ہے یہ عالَمِ بے کاخ و کو
جس کی نومیدی سے ہو سوز دروںِ کائنات
اس کے حق میں تَقنَطُوا اچھّا ہے یا لا تَقنَطُوا؟
جبریل
کھو دئیے تو نے انکار سے مقاماتِ بلند
چشمِ یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبرو!
ابلیس
ہے میری جُرات سے مشتِ خاک میں ذوقِ نمو
میرے فتنے جامہِ عقل و خرد کا تار و پو
دیکھتا ہےتو فقط ساحل سے رزمِ خیر و شر
کون طوفان کے طمانچے کھا رہا ہے،میں کہ تو؟
خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست و پا
میرے طوفاں یم بہ یم، دریا بہ دریا جو بہ جو
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصہِ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو!
میں کھٹکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو
مزید دکھائیں

متعلقہ

Close