نظم

جسٹس لویا کی پراسرار موت

شبیر عالم خاں

سب خوف کی چادراوڑھے ہیں

سب چہرے برف کی مورت ہیں

یہ کس کی نظر کی حدت سے

سب چہرے پگھلتی مورت ہیں

جوہرے بھرے تھے زرد ہوئے

جو گرے پڑے تھے گرد ہوئے

اک تندبگولا پھیل گیا

جو پھول کھلے تھے نذر ہوئے

جب باڑھ ہی کاٹی جائے گی

جب اوٹ گرائی جائے گی

جب دیے بجھائے جائیں گے

تب رات وہ کالی آئے گی

پھرترسیں گے سب ترسیں گے

پھرخون کےآنسوبرسیں گے

اور خاک بداماں لوگوں پر

پھر ظلم کےبادل گرجیں گے

جوظالم ہیں مظلوم بنیں گے

جوحاکم ہیں محکوم بنیں گے

بدسے بدترآگے بڑھیں گے

جوغالب ہیں مغلوب بنیں گے

پھروطن کدھرکو جائے گا

کیا نیا سویرا آئے گا؟

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close