نظم

جی چاہتا ہے

ساعدہ معین

اس گناہ گار دل کو ایمان سے بھرنے کو جی چاہتا ہے

شب و روز ذکر خدا کے سکون میں رہنے کو جی چاہتا ہے

اکیلے نہیں،  خدا کی صحبت اعلیٰ پانے کو جی چاہتا ہے

اس رحمان کے دامن حفاظت تھامنے کو جی چاہتا ہے

صبر کا بہت بڑا حصہ اپنے اندر بسانے کو جی چاہتا ہے

سنجیدگی کے ہنر کو اپنے اندر جگانے کو جی چاہتا ہے

ان خیالات کو زندگی بنانے کو جی چاہتا ہے

زندگی میں آخرت سے دل لگانے کو جی چاہتا ہے

نیک ہدایت کی اڈان بھرنے کو جی چاہتا ہے

مایوسی سے سارے رشتے ختم کر نے کو جی چاہتا ہے

حب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مسرت کو محسوس کرنے کو جی چاہتا ہے

صحابہ کرام رضوان اللہ کے جذبہ ایمان پہ رشک کرنے کو جی چاہتا ہے

تحجد کے گھڑیوں میں قیام و رکوع والی شب منانے کو جی چاہتا ہے

اوجھل مستقبل کو اقامت دين میں گزارنے کو جی چاہتا ہے

بس! ان سب سے آگے اور ان سب سے اوپر ….

خدا کی رضا میں اور خدا کی راہ میں مرنے کو جی چاہتا ہے

۔۔۔۔

اے اللہ ! میری چاہتوں پر رحم فرما!

مزید دکھائیں

2 تبصرے

متعلقہ

Close