نظم

حسرت

ذیشان الٰہی

مری گلی سے گزرنے والی

وہ با حیا، پاک باز لڑکی

کہ جس کی معصومیت نے

جز احترام

دل میں

کبھی کوئی اور خیال آنے نہیں دیا

جس کے مرمریں تن سے

پھوٹتی پاک تر شعائیں

مری نگاہِ سیہ کو

 خیرہ کئے ہوئے ہیں

اگر کسی دن

حصار اپنی حیا کا توڑے

نقاب رخ سے اتار پھینکے

نظر میں بے باکیاں سمو لے

تو اپنے سینے سے

میَں

نگاہِ غلط اٹھانے کی

ساری حسرت

نکال بیٹھوں

مزید دکھائیں

ذیشان الہی

276۔۔۔۔ ذیشان الہٰی ذیشان الہٰی 2 اگست 1990 کو ٹانڈہ امبیڈکر نگر(فیض آباد) یو.پی ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ میٹرک 2005 میں قومی انٹر کالج ٹانڈہ فیض آباد سے کی۔ انٹرمیڈیٹ 2008 میں قومی انٹر کالج ٹانڈہ سے کی۔ بسلسۂ روز گار سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ شاعری کا باقاعدہ آغاز 2010 میں فیس بک کے ادبی تنقیدی گروپ اردو انجمن اور انحراف پر آنے کے بعد کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close