نظم

دل میں اتر گئی ہے محبت نماز کی

محبوب ہے خدا کو عبادت نماز کی

عبدالکریم شاد

دل میں اتر گئی ہے محبت نماز کی

محبوب ہے خدا کو عبادت نماز کی

ہو جائے ایک رکن جو اچھی طرح ادا

کافی نجات کو ہے وہ ساعت نماز کی

جن کو پتا نہیں ہیں مسائل نماز کے

وہ لوگ کر رہے ہیں امامت نماز کی

بستر سے اٹھ کے رات کی تنہائیوں میں دیکھ

ملتی ہے دل کو اور ہی لذت نماز کی

وہ شخص تیر کھا کے بھی مضطر نہیں ہوا

کس درجہ پر سکون ہے حالت نماز کی

یہ آرزو ہے حشر میں اللہ کے حضور

ہر عضو دے رہا ہو شہادت نماز کی

لہو و لعب نے دین سے غافل کیا جسے

اس بد نصیب کو نہیں فرصت نماز کی

سامان حشر باندھ لے موت آ گئی تو کیا

ضائع نہ کر، نفیس ہے مدت نماز کی

سکہ کسی امیر کا چلتا نہیں وہاں

تربت میں کام آئے گی دولت نماز کی

کیا کیا خیال ذہن کو کرتے ہیں منتشر

دل میں اگرچہ رہتی ہے نیت نماز کی

جن کو نہیں ہے اپنے پڑوسی کی کچھ خبر

دنیا کو دے رہے ہیں وہ دعوت نماز کی

سایہ خدا کے عرش کا ہوگا اسے نصیب

رکھتا ہے جان و دل سے جو چاہت نماز کی

ثابت قدم جو رہنا ہے فتنوں کے دور میں

دن رات ہونی چاہیے کثرت نماز کی

محفوظ ہونا چاہو گناہوں سے تم اگر

کرتے رہو ہمیشہ حفاظت نماز کی

دنیا کی نعمتوں پہ تو آ جاتا ہے زوال

بس لا زوال ہے تو یہ نعمت نماز کی

ایسے گناہ گار بھی دوزخ نہ جائیں گے

جن کو نصیب ہوگی شفاعت نماز کی

ہم کو ملی جو دولت و شہرت تو کیا ملا

افسوس! مل سکی نہ سعادت نماز کی

ایک ایک کر کے ساری بری عادتیں گئیں

جس دن سے پڑ گئی مجھے عادت نماز کی

سچ ہے خدا! کہ شاد گنہ گار ہے ترا

کر دے عطا اسے بھی ہدایت نماز کی

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close