نظم

رب کی بخشش کے مقابل یہ خطا کچھ بھی نہیں

مجاہد ہادی ایلولوی

( گجرات الھند)

رب کی بخشش کے مقابل یہ خطا کچھ بھی نہیں
وہ خطا کی دے سزا تو وہ سزا کچھ بھی نہیں

۔

میں ہوں عاصی بندہ تیرا اور تو غفار ہے
تیری بخشش کا ہوں طالب دوسرا کچھ بھی نہیں

۔

جو بتوں کے روبرو سجدے میں برسوں تک رہیں
سر ہوئے زخمی مگر ان کو ملا کچھ بھی نہی

۔

حاکموں کے در سے لوٹو رب سے تم مانگا کرو
اِن کے وعدوں میں سے اب تک تَو ہوا کچھ بھی نہیں

۔

ہر جگہ ہر چیز میں بس تُو ہے خالق تُو ہی تُو
اس جہاں میں تیری قدرت کے سوا کچھ بھی نہیں

۔

تیرے در پر سب ہی آکر اک ہی صف میں ہے کھڑے
سب برابر ہے یہاں چھوٹا بڑا کچھ بھی نہیں

۔

میرے دل میں میرے لب پر بس ترا  ہی ذکر ہے
بندگی تیری ہے, تیرے ما سوا کچھ بھی نہیں

۔

رب سے ہادی لینے آجاتے ہو روزانہ تمہیں
وہ تو دیتا ہے تمہیں تم نے دیا کچھ بھی نہیں

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close