نظم

روح پرور جھلکیوں کا حج کی یہ نذرانہ ہے

آج کا دن یادگارِ ہمتِ مردانہ ہے

رحمت الہی برقؔ اعظمی مرحوم

( پدر عزیز احمد علی برقیؔ اعظمی)

روح پرور جھلکیوں کا حج کی یہ نذرانہ ہے

آج کا دن یادگارِ ہمتِ مردانہ ہے

جمع ہیں مکہ میں دنیا بھر کے پروانہ صفت
ضوفگن کعبہ میں شمعِ جلوۂ جانانہ ہے

پی رہے ہیں باندھ کر احرام رنداں ولا
مے براہیم ہے لیکن احمدی پیمانہ ہے

ہے لبوں پر نعرۂ تکبیر کی دلکش صدا
شوق میں ہر ہر قدم پر سجدۂ شکرانہ ہے

اِذن ہے پیاسا نہ جائے کوئی رندِ معرفت
جوش پر دریا دلئ ساقئ میخانہ ہے

صف بہ صف مستوں کی ٹولی ہے پرا باندھے ہوئے
نعرۂ تکبیر سے گونجا ہوا میخانہ ہے

کیوں نہ ان بندوں کی قسمت پر فلک کو ناز ہو
رحمتِ حق جن کے شانوں سے مِلائے شانہ ہے

ہوشیار اے مرغِ شاخِ نخلِ طوبیٰ ہوشیار
حُبِ دنیا دام ہے حِرصِ زمانہ دانہ ہے

حُسنِ اخلاق و مروت پر ہے سب کچھ منحصر
کوئی اپنا ہے نہ دنیا میں کوئی بیگانہ ہے

بوئے اُلفت گر نہیں تجھ میں تو ہے ننگِ چمن
دیکھ سبزہ جُزوِ گلشن ہوکے بھی بیگانہ ہے

غور سے سن برق ؔ کے اشعار اور دل سے سمجھ
کام کی باتیں ہیں گو انداز گُستاخانہ ہے

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close