نظم

زباں خود آگاہی انسان کی

نزہت قاسمی

زباں خود آگاہی انسان کی
کرے مکمل انساں کو
۔

زباں نشان دہی آداب کی
کرے ممتاز انساں کو
۔

زباں پرواز ہےجذبوں کی
کرے سرشار انساں کو
۔

زباں ترجماں احساس کی
کرے مہرباں انسان کو
۔

زباں ترسیل ہےتہذیب کی
دے پہچان انساں کو
۔

زباں وراثت قوموں کی
دے نئی راہ انسان کو
۔

زباں زینت ہے دنیا کی
بنائے مہذب انسان کو
۔

زباں ان گنت علاقوں کی
دے تعارف انسان کو
۔

زباں پیاری ہےاردو ہماری
لبھائے ہر ادب نواز کو
۔

زباں اردو کی وسعت نرالی
سمائے کئی انوکھے انداز کو
۔

ہر صنف اس کی ہے نیاری
نئےگُن یہ سکھائےنزہت کو

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close