نظم

سنبھل جاؤ اہلِ وطن

نزہت قاسمی

سنبھل جاواہلِ وطن نہیں اب جائے پناہ
شہروں میں بھی بسنے لگے ہیں بھیڑئیے

چہروں پہ چہرے چڑھے ہیں انکے بے پناہ
بد شکل ہی نہیں بد کردار ہے یہ بھیڑئیے

بھولی پریوں  پر رکھیں ہر دم اپنی پناہ
معصوم کلیوں کی تاک میں بیٹھے بھیڑئیے

نہیں آتا ان کو ترس سفاک ہیں یہ بے پناہ
پتھر دل جاہل اور خوں خوار یہ بھیڑ ئیے

آدمیت بھی ڈروخوف سے مانگتی ہے پناہ
انسانیت سے عاری حیوان صفت بھیڑئیے

سسکتی، بلکتی، حیراں ہراساں بے پناہ
پامال کرتےعصمتوں کی اماں یہ بھیڑئیے

نسوانیت پے در پے جھیلتی درد بے پناہ
جنگل کے بھیڑئیوں کو شرماتے یہ بھیڑئیے

روکتے نہیں اور دیتے بھی ہیں انہیں پناہ
یہاں بھیڑئیوں کےہمدرد بہت ہیں بھیڑئیے

وطنِ عزیز جھیل رہا ایسے زخم  بے پناہ
نفرت ،بغض اور فتنوں کو جگاتے بھیڑئیے

ظلم حدسے سوا چھینے ظالم کی جائے پناہ
قہر نازل ہواہی چاہتاہے تم پر دیکھو بھیڑئیے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close