سپہرِ ادب کا وہ ماہِ تمام- بیاد ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد مرحوم

احمد علی برقیؔ اعظمی

سپہرِ ادب کا وہ ماہِ تمام
ملکزادہ منظور تھا جس کا نام
نہیں آج تنہا ہوا وہ غروب
اب اک دور کا ہوگیا اختتام
تھا حاصل اسے سب پہ اوجِ شرف
جہانِ نظامت کا تھا وہ امام
اسے نظم اور نثر پر تھا عبور
ادب میں نمایاں تھا اس کا مقام
جو تھا رونقِ بزمِ شعر و ادب
وہ تھا عمر بھرمرجعِ خاص و عام
تھا تنقید کے اس کی زیرِ اثر
ہے عہدِ رواں کا جو فکری نظام
تھی گرویدہ اس کی عروسِ ادب
جو دیتا تھا مہر و وفا کا پیام
وہ تھا عہدِ حاضر کا بیدار مغز
تھا ترویج اردو میں جو پیشگام
ہے ’’ رقص شرر‘‘ ایک تاریخ ساز
معاصر ادیبوں پہ اس کا یہ کام
رہیں گے ادیبوں کے وہ خضرِ راہ
گیا چھوڑ کر جو نقوشِ دوام
ہے بائیس اپریل کتنا نَحَس
لیا ہم سے کس بات  کا انتقام
مٹے گا نہ برقیؔ مٹانے سے وہ
دلوں پر ہے جو نقش اس کا کلام



⋆ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

یادِ رفتگاں: بیاد شمسؔ رمزی مرحوم

شمسؔ رمزی تھے جو اقلیمِ سخن کے تاجدار تھے وہ ادبی محفلوں میں صاحبِ عزو وقار