نظم

سیریا

راشد عالم راشد

دل سسکتا ہے آنکھیں ہیں نم سیریا

دیکھ کر تجھ پہ ظلم و ستم  سیریا

.

کاش  آتی  صدا  راہبر   کی  ہمیں

ہم  ترے ساتھ ہیں ہر   قدم   سیریا

.

کھل کے جیسا بھی تھا سامنے آ گیا

سب  مسیحاؤں   کا اب بھرم سیریا

.

تیرے آنگن میں آہ و  بکا کی صدا

جل  گیا تیرا    سارا  حرم   سیریا

.

خون  کی ہولی تم کھیل لو ظالمو

بن کے لوٹے گا تجھ پہ ستم سیریا

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. دل خون کے آنسو روتا ہے, معصوم پھول مسلے جارہے ہیں, زمین بے گناہوں کے خون سے رنگین ہے, عفت مآب بیٹیاں بے ردا ہیں, فضا بارود کی بو سے بوجھل ہے. ہائے شام, ہائے عراق, ہائے فلسطین, ہائے یمن, ہائے،ہائے چیچنیا الغرض کس کس کا نوحہ لکھوں. اے اللہ ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما, اے اللہ جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم سکت نہیں رکھتے اس سے ہمیں محفوظ رکھ, اے اللہ اپنے دین کے دشمنوں سے اس امت کو محفوظ رکھ, سوائے تیرے ہمارا آسرا کون ہے. ہمیں نیک بنا دے اور صالح قیادت عطا فرما, ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں.

    آمین یا رب العامین.

متعلقہ

Back to top button
Close