نظم

شہرۂ آفاق شاعرہ پروین شاکر کی نذر

احمد علی برقیؔ اعظمی

بجھی ناوقت شمعِ زندگی پروین شاکر کی

مگر باقی ہے اب تک روشنی پروین شاکر کی

غزلخواں ہے عروسِ فکر و فن اشعار میں اُس کے

نہایت دلنشیں ہے شاعری پروین شاکر کی

غزل بن کر دھڑکتی ہے دلوں میں اہل دل کے وہ
نہ کم ہوگی کبھی بھی دلکشی پروین شاکر کی

بنالیتی ہے اپنے فکر و فن کا سب کو گرویدہ
غزل میں ہے جو عصری آگہی پروین شاکر کی

ترو تازہ ہیں گلہائے مضامیں آج بھی اُس کے
یونہی قایم رہے گی تازگی پروین شاکر کی

علمبردار تھی وہ جذبۂ احساسِ نسواں کی
نمایاں ہے کتابِ زندگی پروین شاکر کی

دلوں پر نقش ہیں برقیؔ نقوشِ جاوداں اُس کے
ہے عصری معنویت آج بھی پروین شاکر کی

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close