نظم

عاشقان مصطفیٰ

یاسرعرفات طلبگار

عاشقان مصطفیٰ ہیں مست نعروں میں فقط

جانتے لیکن نہیں ہیں کیا صحیح ہے کیا غلط

جب اذاں ہوتی ہے مسجد میں وہاں جاتے نہیں

فیض معبود حقیقی سے کبھی پاتے نہیں

ترک کرتے ہیں نمازیں عشق کے یہ مدعی

پھر بھی ان کو ہے نبیؐ سے جان و دل سے عاشقی

ہے نمازِ امتی راحت نبیِ کے واسطے

پر نبیۖ سے مختلف ہیں امتی کے راستے

سود کا تاجر بھی کہتا ہے "چلے گا کیا یہاں”

خود اڑاتا ہے نظامِ مصطفیٰ کی دھجیاں

سر پہ کلمہ باندھ کر دیتا ہے نعرے کو بہ کو

دل شہادت ہی نہیں دیتا زباں کی ہو بہو

نعرہ تکبیر پڑھ کر دین کامل ہوگیا

اور جنت کے لئے پروانہ حاصل ہوگیا

ہے عجب رسم عقیدت، ہے عجب یہ عاشقی

خود منایا کب نبیۖ نے  جشنِ میلاد نبیۖ؟

شہرِ طائف میں تھی بن آئی نبیؐ کی جان پر

جشن ہوتے ہیں ہمارے آج دسترخوان پر

وہ ہمیشہ دین کی دعوت میں رہتے تھے مگن

اور ہم دعوت اڑاتے ہیں لگا کر جان و تن

جسمِ حمزہ کی بنائیں دشمنوں نے بوٹیاں

اور ہم کھاتے ہیں مل کر آج بیٹھے بوٹیاں

جان و دل سے سب صحابہ مصطفٰی پر تھے فدا

وہ تھے سب راضی خدا سے اور ان سے ہے خدا

وہ چراغِ مصطفیٰ پر تھے فدا پروانہ وار

چاہتے تھے مصطفیٰ کو دل سے وہ دیوانہ وار

ہے ابوبکر و عمر عشقِ محمدۖ کی دلیل

ہے اطاعت مصطفیٰ کی کامیابی کی سبیل

ہیں فقط یاسر زبانی عشق کے دعوے سبھی

عشق کا قائل ہمارا دل نہ ہو پایا کبھی

مزید دکھائیں

یاسر عرفات طلبگار

دُدھوت ڈوڈہ جموں و کشمیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close