نظم

عظمتِ انساں

تاج الدین اشعر

وہ ملک کہ اپنے بندوں سے یزداں نے بسایاتھا جس کو

وہ ملک کہ دستِ قدرت نے ہر طرح سجایا تھا جس کو

نسلِ انساں کا پیار بھرا گہوارہ بنایا تھا جس کو

سنتے ہیں کہ اس سے شرمندہ اک دور میں جنت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

تہذیب کے سورج نے ڈالی تھی اس پہ کرن سب سے پہلے

انسان نے اسی میں سیکھا تھا ہر علم وفن سب سے پہلے

دھرتی یہ بنی تھی مذہب کے پھولوں کا چمن سب سے پہلے

جن کی خوشبو سے روحِ بشر سرمستِ سعادت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہیں سب سے پہلے انساں نے خدا کو پہچانا

جلوؤں سے نگاہیں چار ہوئیں فطرت کی ادا کو پہچانا

عرفانِ محبت عام ہوا ، تہذیب وفا کو پہچانا

سنتے ہیں کہ چشمِ سرسے یہاں یزداں کی زیارت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

ویداُترے تھے اس دھرتی پہ کبھی پرُنور ومقدس گیان لیے

اک شیام سلونا آیا تھا مرلی کی منوہر تان لیے

گیتا کا صحیفہ ہاتھوں میں ہونٹوں پہ مدُھر مسکان لیے

ہر دور میں جس کی شکشاسے روحوں کی طہارت ہوتی تھی

سنتے تھے یہاں سب سے پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں جب حد سے سوا  ر اون کا اتیاچار ہوا

سر اس کا کچلنے کی خاطر رام ؔایک عظیم اوتار ہوا

نیکی نے بدی سے ٹکرلی ، سچائی کا بیڑا پار ہوا

انصاف سدا پاتا تھا وجے ، ظالم ہی کی ذلّت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

اٹھے ہیں مہابیرؔ اس سے کبھی مانو تا کا پرچم لے کر

گوتم ؔنے دلوں کے زخم بھرے ہمدردی کا مرہم لے کر

نانکؔ اور گاندھیؔ آگے بڑھے پھر پریم ڈگر میں دم لے کر

یہ وہ تھے کہ جن کا زادِ سفر اخلاق کی دولت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

سنتے ہیں کبیرؔ وتلسیؔ نے یاں پریم کے نغمے گائے ہیں

سورؔ اور رحیمؔومیرؔا نے بھگتی کے کلس چھلکائے ہیں

ٹیگور ؔنے اپنے گیتوں میں اسرار وفا سمجھائے ہیں

ان گیتوں سے پیاسی روحِ بشر سیرابِ محبت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

یہ دیس غرض گہوارا رہا دنیا کے عظیم انسانوں کا

الفت کے علمبردار وں کا ، سچائی کے دیوانوں کا

انصاف سدا آدرش رہا اس دھرتی کی سنتا نوں کا

سینوں میں محبّت ہوتی تھی آنکھوں میں مروت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں آباد مکاں پہلے نہ جلائے جاتے تھے

بچوں کے پھول سے جسموں پر خنجر نہ چلائے جاتے تھے

کمزور سمجھ کر لوگ یہاں پہلے نہ ستائے جاتے تھے

انسانوں کا انساں ہونا ہی جانوں کی ضمانت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں بسنے والا انسان نہ تھا حیواں پہلے

سینوں میں جنون ووحشت کا بیباک نہ تھا طوفاں پہلے

سنتے ہیں نہ تھا اس دھرتی پرانساں کا لہو ارزاں پہلے

سنتے ہیں کہ خون انساں کے ہر بوند کی قیمت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے ہر انسان کی عظمت ہوتی تھی

عورت کو دیوی جانتے تھے ، دیوی سے عقیدت لازم تھی

اپنا ہو چاہے دشمن کا ، ناموس کی حرمت لازم تھی

نقد دل وجاں کے بدلے بھی عصمت کی حفاظت لازم تھی

اک دروپدیؔ اک سیتاؔکی ہتک سامانِ قیامت ہوئی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

سنتے ہیں ظلم کا پرچم ہی ظالم کا کفن بن جاتا تھا

پاپی کا سونے کا لنکا خودشعلہ فگن ہوجاتا تھا

انیائے کا منظرویروں کے ماتھے کی شکن بن جاتا تھا

ہوخواہ کہیں بھی ظلم کی خو‘وہ قابل نفرت ہوتی تھی

سنتے ہیں یہاں صدیوں پہلے انسان کی عظمت ہوتی تھی

شاعر کی نظر پھر پیاسی ہے وہ پچھلے نظارے دیکھنے کو

نفرت کو بہالے جائے جو وہ پریم کے دھارے دیکھنے کو

دھرتی کو بو سے دیتے ہوئے آکاش کے تارے دیکھنے کو

اے کاش وہ دن پھر لوٹ آئیں ہم اپنی روایت پہچانیں

بھگوان کی عظمت سے پہلے انسان کی عظمت پہچانیں

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close