نظم

علیحدگی

ذیشان الٰہی

اس نے الماری سے

اپنے سارے کپڑے چھانٹ چھانٹ کر

بیگ کے اندر ٹھونس لیے ہیں

کچھ دن پہلے

مرے دلائے سوٹ اٹھا کر آتش دان میں جھونک دیے ہیں

دیواروں پر ٹنگی ہوئی تصویریں پھاڑ کے

خود کو مجھ سے الگ کیا ہے

میرے بخشے(سہاگ رات کے) کنگن

مجھ پر دے مارے ہیں

اور گملوں سے

اپنے لگائے ہوئے پھولوں کے پودے نوچ کے پھینک دیے ہیں

وہ اپنی دانست میں

 مجھ سے جڑی ہوئی ہر یاد مٹا کر چلی گئی ہے

شکن زدہ بستر پر لیکن

خوشبو اپنی بھول گئی ہے

مزید دکھائیں

ذیشان الہی

276۔۔۔۔ ذیشان الہٰیذیشان الہٰی 2 اگست 1990 کو ٹانڈہ امبیڈکر نگر(فیض آباد) یو.پی ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ میٹرک 2005 میں قومی انٹر کالج ٹانڈہ فیض آباد سے کی۔ انٹرمیڈیٹ 2008 میں قومی انٹر کالج ٹانڈہ سے کی۔ بسلسۂ روز گار سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ شاعری کا باقاعدہ آغاز 2010 میں فیس بک کے ادبی تنقیدی گروپ اردو انجمن اور انحراف پر آنے کے بعد کیا۔

متعلقہ

Back to top button
Close