نظم

فسوں کے کارنامے

 حافظ فیصل عادل

وہ تری یاد کے میٹھے گنّے

جنھیں کچھ دیر چباتے ہیں اگل دیتے ہیں

ان کے رس نے ہیں دریچے کھولے

وہ دریچے کہ نہ کھلتے تھے کبھی

جن سے دل اور جگر میں چلی آئی ٹھنڈک

 جسم اپنا نہ رہا کسی زنداں کی طرح

جس میں روحوں کی طلب رہتی ہے اڑ جانے کی

روح پیوست ہوی جسم سے ایسے اب کے

زہر کے جام کی صورت

ہمیں لگتی ہے موت

جسم سے روح بچھڑنے کا الم سہنا ہے

اے مری سانس تجھے دیر تلک رہنا ہے

کوئی آواز کراہوں کی نہ جائے ضائع

کتنا اچھا ہو اگر ہوں یہ قید

ان کے ہاتھوں کا اشارہ بھی ہو

اور محفوظ کریں اپنے دماغ و دل میں

پھر جو یادوں کی چلیں ٹھنڈی ہوائیں دل میں

آہ اک سرد بھریں اشک بہائیں خوں کے

کارنامے یہ فسوں کے نہ بھلائے جائیں

خواہ ہوں دفن یا آتش میں جلائے جائیں

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close