نظم

ماں

عبدالکریم شاد

لوگ کہتے ہیں برا مجھ کو بھلا کہتی ہے ماں

میری خاطر دوسروں کے طعنے بھی سہتی ہے ماں

سب کو تر کرتی ہے لیکن خشک خود رہتی ہے ماں

ایک دریا کی طرح گھر میں سدا بہتی ہے ماں

اپنے بچوں کے لبوں پر مسکراہٹ کے لیے

ہنستے ہنستے زندگی کے سارے غم سہتی ہے ماں

وہ تو رکھ لیتی ہے پتھر اپنے دل پر عارضی

ورنہ مجھ سے اصل میں ناراض کب رہتی ہے ماں

 سب کی سنتی ہے شکایت ایک اک کر کے مگر

خود کسی بھی حال میں ہو کچھ نہیں کہتی ہے ماں

اپنے اچھے اور برے کا کچھ نہیں اس کو خیال

رات دن اولاد کی ہی فکر میں رہتی ہے ماں

جانے کیا سوتے میں چہرے پر مرے رہتا ہے نقش

ٹکٹکی باندھے مجھے بس دیکھتی رہتی ہے ماں

دیکھ کر آگے نکل جائیں اگر بیٹے کبھی

 پھر بھی بیٹوں کو کبھی اندھا نہیں کہتی ہے ماں

رخصتی کا وقت ہو یا میری آمد کی گھڑی

روتے روتے میرا چہرہ چومتی رہتی ہے ماں

جس پہ میری کام یابی کی ہے چھت ٹھہری ہوئی

تیری ناراضی سے وہ دیوار اب ڈہتی ہے ماں!

ہائے ان چھالوں کا دوں گا حشر میں میں کیا حساب

تیرے ان قدموں تلے جنت مری رہتی ہے ماں!

میرے آنسو پونچھ دیتی تھی مجھے پچکار کر

تو نہیں ہے تو مسلسل آنکھ یہ بہتی ہے ماں!

اب نہیں ملتا جو مجھ کو لطف تیری ڈانٹ کا

ہے عبث تعریف میں دنیا جو کچھ کہتی ہے ماں!

دیکھ کر اب اپنے بچوں کو بہل جاتا ہوں میں

ان کی ہر مسکان میں تیری ادا رہتی ہے ماں!

تو نے دیکھے تھے مرے جو خواب پورے ہو گئے

یوں تو سب کچھ ہے مگر تیری کمی رہتی ہے ماں!

آنے جانے سے یہاں تھوڑا قرار آ جاتا ہے

اس محلے میں سہیلی اک تری رہتی ہے ماں!

زندگی بھر اس کا حق بھی ہو نہیں سکتا ادا

شاد جی! وقتِ ولادت درد جو سہتی ہے ماں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close