نظم

ماں

یاسرعرفات طلبگار

خلوص و انس کا پیکر محبت کا سمندر ہے

جہانِ آدمیّت میں نہ کوئی ماں کا ہمسر ہے

ہے رحمت ماں کا سایہ چلچلاتی دھوپ میں یاسر

وہی بچہ ہے خوش قسمت یہ سایہ جس کے سر پر ہے

نہیں اندازہ کر سکتے ہیں ہم اس کی بلندی کا

پڑھاتی ہے سبق اولاد کو جو عقلمندی کا

سراپا مہر و الفت کا وہ بحرِ بے کراں ہے بس

وہ دریائے رواں ہے اس جہاں میں دردمندی کا

خوشی سے درد سہہ لیتی ہے بچے کی ولادت پر

فرشتے ناز کرتے ہیں وہاں ماں کی سعادت پر

وہ بچے کے لئے خود کو سراپا بھول جاتی ہے

وہ اپنی جاں چھڑک دیتی ہے بچے کی حفاظت پر

اگر روتا ہے بچہ رات کو وہ جاگ جاتی ہے

تو فوراً اٹھ کے بچے کو گلے سے پھر لگاتی ہے

بھگو دیتا ہے یہ بچہ جہاں بستر کو پانی سے

وہاں خود سو کے اس کے گیلے بستر کو سُکھاتی ہے

سراپا اپنے بچوں کے لئے وہ ایک رحمت ہے

ہے جنت اس کے قدموں میں یہی بس ماں کی عظمت ہے

یہاں بھی اور وہاں بھی ماں سبب ہے سرخروئی کا

ملی خدمت جسے ماں کی درخشاں اس کی قسمت ہے

مزید دکھائیں

یاسر عرفات طلبگار

دُدھوت ڈوڈہ جموں و کشمیر

متعلقہ

Back to top button
Close