نظم

ماں

افتخار راغبؔ

ماں کی توصیف کیا ہو بیاں

اک مقدّس صحیفہ ہے ماں

ماں کی ممتا زمیں کی طرح

ماں محبت کا ہے آسماں

ماں کی آغوش پیہم سکون

ماں سراپا ہے امن و اماں

ماں کا دل ہے رحیم و شفیق

ماں ہے رحمان کی ترجماں

اپنی اولاد کے واسطے

کتنی تکلیف اٹھاتی ہے ماں

بس دعا کے لیے ہیں بنے

ماں کا دل اور ماں کی زباں

ماں کے قدموں تلے ہے بہشت

ماں کے جیسا ہے کوئی کہاں

ماں کی توصیف کیا ہو بیاں

اک مقدّس صحیفہ ہے ماں

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. سارے رشتے پیدا ہونے کے بعد بنتے ہیں ، اس زمین پر ایک واحد ایسا رشتہ ہے جو ہمارے پیدا ہونے سے نو ماہ پہلے بن جاتا ہے ،
    وہ بس وہی کھاتی ہے جس سے ہمیں نقصان نہ ہو ، وہ بڑے سے بڑے درد میں بھی عذاب بھگت لیتی ہے مگر درد مارنے کی دوا نہیں کھاتی کہ کہیں وہ دوا ہم کو نہ مار دے ، ہم اس کی پسند کے کھانے چھڑا دیتے ہیں ،،ہم اس پر نیند حرام کر دیتے یں ،، وہ کسی ایک طرف ہو کر چین سے سو نہیں سکتی ، وہ سوتے میں بھی جاگتی رہتی ہے ، 9 مہینے ایک درد سے گزرتی ہے ،گرتی ہے تو پیٹ کے بل نہیں گرتی پہلو کے بل گر کر ہڈی تڑوا لیتی ہے تجھے بچا لیتی ہے ،
    اس نے ابھی تیری شکل نہیں دیکھی ، لوگ شکل دیکھ کر پیار کرتے ہیں وہ غائبانہ پیار کرتی ہے ، لوگ تصویر مانگ کر سلیکٹ کرتے ہیں ، دنیا کا کوئی رشتہ اس خلوص کی مثال پیش نہیں کر سکتا ،، خدا کو اس پر اتنا اعتبار ہے کہ اس کو اپنی محبت کا پیمانہ بنا لیا ،، اور جنتی ہے تو قیامت سے گزر کر جنتی ہے اور ہوش آتا ہے تو پہلا سوال تیری خیریت کا ہی ہوتا ہے ،
    خدا کے بعد وہ واحد ہستی ہے جو عیب چھپا چھپا کر رکھتی ہے ، تیری حمایت میں وہ عذر تراشتی ہے کہ میرے باپ کو مطمئن اور مجھے حیران کر دیتی ہے ، باپ کھانا بند کرے تو وہ اپنے حصے کا کھلا دیتی ہے ، باپ گھر سے نکال دے تو وہ دروازہ چوری سے کھول دیتی ہے،
    خدا کے سوا کوئی تیرا اتنا خیال نہیں رکھتا جتنا ماں رکھتی ہے ، خدا نے بھی جنت اٹھا کر اس ماں کے قدموں میں رکھ دی ،
    اللہ پاک سب کی ماؤں کو لمبی زندگی دے جن کے مائیں فوت ہیں انہیں اللہ پاک جنت فردوس عطا کریں.

    آمین ثم آمین

متعلقہ

Close