نظم

 ماہنامہ سائنس نئی دہلی پر منظوم تاثرات 

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی

ہوگئے سائنس کی تاسیس کے چوبیس سال
اس کو حاصل ہو یونہی پیہم عروج لازوال
پیش کرتا ہوں مبارکباد میں اس کی انھیں
ڈاکٹر اسلمؔ کا یہ ون مین شو ہے بے مثال
اردو میں سائنس پر ہے یہ مجلہ دلنشیں
آپ کو ایسے رسالے اب ملیں گے خال خال
اقتضائے وقت ہے سائنس دنیا کے لئے
علم و دانش کی ترقی یہ اسی کا ہے کمال
آج ہر تحقیق کا سہرا اسی کے سر پہ ہے
گر نہ ہو سائنس تو کارِ ترقی ہے محال
آءئے مل کر کریں ہم لوگ اپنا احتساب
کیسے کیسے ہم میں تھے ماضی میں ارباب کمال
آپ کو معلوم ہے کیا بو علی سینا تھے کون
جن کی القانون کی اب تک نہیں کوئی مثال
کیا تھے فخرالدین رازی تھے عمر خیام کون
قایم و دایم ہے جن کا آج بھی جاہ و جلال
جو ہوا جو کچھ ہوا کردیں اسے رفت و گذشت
اب بھی کرسکتے ہیں حاصل آپ یہ اوجِ کمال
عہد حاضر میں حکیم اجمل ہوں یا عبدالحمید
سب کے ہیں وردِ زباں جو اب بھی بعد از ارتحال
آپ برقیؔ کی نہ مانیں خود ہی پڑھ کر دیکھ لیں
زیبِ تاریخ جہاں ہے فکر و فن کا اتصال

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Back to top button
Close