نظم

مبارک ہو سبھی اہل وطن کو جشنِ آزادی

جہانِ رنگ و بو میں ہو نہ کوئی نقشِ فریادی

احمد علی برقیؔ اعظمی

مبارک ہوسبھی اہل وطن کو جشنِ آزادی
جہانِ رنگ و بو میں ہو نہ کوئی نقشِ فریادی

تعصب اور نفرت دور ہوجائے زمانے سے
رہے ہرشے سے بالاتر دلوں میں جذبۂ شادی

رہیں شیر و شکر مِل جُل کے شیخ و برہمن ہر سو
رہے خوشحال ہر حالت میں آبادی کی آبادی

ہیں جن کے خواب جو شرمندۂ تعبیر ہوجائیں
جہاں سے دور ہوجائے نشانِ جنگ و بربادی

نہ ہو محروم کوئی روٹی ، کپڑے اور نشیمن سے
میسرہوں یہ اشیائے ضروری سب کو بُنیادی

دلوں میں ہے جو برقیؔ وہ کدورت دور ہوجائے
سبھی ہو جائیں مِہر و لطف و حُسنِ خُلق کے عادی

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close