نظم

مدرسہ

شاہدؔکمال

مدرسہ ہندوستاں کی انفرادی شان ہے

مدرسہ جمہوریت کا اک نیا عنوان ہے

مدرسہ انسانیت کا ایک نیا آئین ہے

مدرسہ سرچشمہ تکمیل اہل علم ہے

اس کے زرافشانیوں سے فکر پاتی ہے نمو

اس کے تازہ دم ہواؤں سے دمکتا ہے دماغ

اس کے ذروں سے چمکتے ہیں نجوم کاینات

آسماں تعمیر ہوتا ہے اسی کی خاک سے

مدرسہ اک ضرب ہے ایوان اہل ظلم پر

مدرسہ فرعونیت کے راستے کا نیل ہے

بات کیا ہے آج اس کے نام کی ہیبت سے خود

لررزہ براندام ہے پھر اہل باطل کا وجود

گونجتا ہے اس کی سانسوں میں قیامت کوسکوت

اس کے فرزندوں کا شامل ہے لہو اس خاک میں

ہاں اسے آزادی ہندوستاں پہ ناز ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close