نظم

 مری آنکھوں میں دیکھو نا

نظر آئے گا اک چہرہ

افتخار راغبؔ

مری آنکھوں میں دیکھو نا

نظر آئے گا اک چہرہ

وہ چہرہ عکس جس کا

ہو بہ ہو ملتا ہے تم سے

ہاں فقط تم سے

نہیں کہتا کسی سے میں

چھپا کر اُس کو رکھتا ہوں

میں ڈرتا ہوں کہیں دنیا

حسد کرنے نہ لگ جائے

مگر تم دیکھ سکتے ہو

وہ چہرہ جس کا پرتو میری غزلوں میں جھلکتا ہے

وہ چہرہ جس کی تابانی سے یہ آنکھیں چمکتی ہیں

وہ چہرہ جس کے کومل اور حسیں رخسار پر بکھرے اجالے سے

مری دنیا منور ہے

مرا دل جگمگاتا ہے

خیال و خواب کی وادی کی چھٹ جاتی ہے تاریکی

مرے احساس کی سب کھڑکیوں میں روشنی سی ہے

مرے جذبات کو جس سے توانائی میسر ہے

مری غزلیں مری نظمیں

مرا سب کچھ اسی کے دم سے جگمگ ہے

بہت حیرت زدہ ہو تم

یقیں تم کو نہیں شاید

چلو آؤ ذرا دیکھو

کہ ہے وہ کون اور کس درجہ سندر ہے

مری آنکھوں میں دیکھو نا

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Close