معروف و منکر

 نزہت قاسمی

   امربالمعروف

   مومن کا یہ طرز بےضرر

   تلقین اس میں نیکی کی

   اور چاہت سب ہوں نیکوکار

   نہی عن المنکر کے بغیر تو

  جیتے بھی ہیں اغیار

   برائی کی تکذیب

   ہے ایمان کا معیار

   یہ وصف اسلام جس پر

   ہوتا ہے مسلم پائیدار

   راہِ حق کی راہ میں

   اس کابھی ہے برابر شمار

   معاشرے میں تشکیل پائیں

   اس سے پاکیزہ اطوار

   ایمان کی پیمائش کا

   اس میں واضح ہے اظہار

   تین درجوں پر یہ دائرہ کار

   عمل پر جس کا اجر منحصر

   برائی ہاتھ سے روکوگر

   ایمانی جذبے کا اول معیار

   برائی زبان سے روکو گر

   ایمانی جذبے کا دوجا معیار

   دونوں جذبے نہ ہو گر کارگر

   اطلاق پائے دل کا وہ شعار

   جو کہلائے برائی سے بیزار

   ایمانی جذبے کا تیسرا معیار

   پکڑیں جو ہم گر یہ لازم امر

   امر بالمعروف و نہی عن المنکر

   پھر تو چہار سو آجائے نزہت

   ایک نئی امن واماں کی بہار



⋆ نزہت قاسمی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

آخر ہم کب بدلیں گے؟

 چاہت قلبِ سلیم کی پیداہوگی ہم میں کب   آخرہم کب بدلیں گے آخر عمل کریں گے کب 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے