نظم

معصوم اہل شام 

نزہت قاسمی

خدایا ہم شرمندہ ہیں معصوم اہل شام
دکھتا ہےدل پر ہیں بہت دور و مجبور ہم
۔
تمھارا قطرہِؑ خون بھی معصوم اہل شام
گراں بار ہے اور ہیں رنجور و مقروض ہم
۔
صداقت پر تم ثابت قدم معصوم اہل شام
تختہؑ مشق ہے عوام بے قصوراور بیزارہم
۔
بہانا تم کو ختم کرنے کا معصوم اہل شام
تماشائی ہے کوئی اور ہیں مددسےقاصر ہم
۔
حق زندگی کی امیدرکھنامعصوم اہل شام
کیوں بنتے ہتھیار  امن واماں کےخوگر ہم

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close