نظم

مغالطے میں مت رہیے

 تبسم فاطمہ
مغالطے میں مت رہیے
زندہ رہنے کے لئے ہوا پانی کے علاوہ بھی کچھ چاہئے،
جو آپ کے پاس نہیں ہے
آپ کو پتہ بھی نہیں کہ باہر برف گر رہی ہے
یا تپتی سلگتی ریت بارود بن چکی ہے
دونوں صورتوں میں آپ  اندھے، بہرے اور گونگے بنا دیے گئے ہیں
آپ کو ابھی تک انصاف ،جرم ،جایز ،ناجایز میں الجھے ہوئے ہیں
مغالطے میں مت رہیے
آپ  کی زندگی کا سارا  فلسفہ بھاپ بن کر اڑ چکا ہے
یہاں دور تک جاتی ہوئی سڑک ویران ہے
یہاں آبادیاں  تو ہیں، لیکن ایک تیز بدبو آپکا  جینا دوبھر  کر سکتی ہے
یہاں آپ  نہیں، چلتے ڈولتے انسانی پتلے ہیں
روبوٹ کی طرح اشاروں پر ناچتے
آپ کے پاس نہ ہنسی ہے نہ چیخ نہ آنسو
مغالطے میں مت رہیے
ابھی ابھی اسی ویران سڑک سے ایک کوڑا گاڑی گزری ہے
ان پتلوں کا بوجھ اٹھانے  کے لئے
جن کی  ایک آنکھ برف سے بیٹھ گئی
اور دوسری بارودی ریت میں جل گی
مغالطے میں مت رہیے
یہ کوئی خبر نہیں
اخبارات کا زمانہ گزر چکا ہے
ٹی وی چنیلس  پر روبوٹ کی حکومت ہے
آپ سوچنا نہیں ہے
دیکھنا نہیں ہے
بولنا نہیں ہے
مغالطے میں مت رہیے
یہ  وراثت آپ کے پاس پہلے بھی نہیں تھی
یا آپ  اس قابل نہیں تھے کہ
دیکھنے، سننے اور بولنے کی وراثت کو قائم رکھتے
مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close